Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میںاچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیںBadr Muneer
  2. تجھ کو خود سے منہا کرتےنا ممکن تھا ایسا کرتےBadr Muneer
  3. تری صورت میں رہائی مل گئیآنکھ کتنے منظروں میں قید تھیBadr Muneer
  4. جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دناس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دنBadr Muneer
  5. جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیںمیری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیںBadr Muneer
  6. جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیںلگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیںBadr Muneer
  7. زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نےپھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھاBadr Muneer
  8. سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھیزیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتےBadr Muneer
  9. سمجھ میں آتا نہیں یہ کیسی نمو ہے مجھ میںوہ میری مٹی میں کچھ ملا کر چلا گیا ہےBadr Muneer
  10. طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔتو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چلBadr Muneer
  11. کب سے پہنچ گیا ہوں میں اس شخص کے قریبکہتی ہے پھر بھی اس کی نظر راستے میں ہوںBadr Muneer
  12. کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجےیہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہےBadr Muneer
  13. کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلےبے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیںBadr Muneer
  14. گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگوپھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیاBadr Muneer
  15. مسکرا کر اگر وہ دیکھے توآئنے پر نشان پڑ جائےBadr Muneer
  16. میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوںنئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوںBadr Muneer
  17. یہ آئینوں کے ہیں یا نقص میرےبگڑتے جا رہے ہیں عکس میرےBadr Muneer
  18. یہ تو اہل جنوں کا مسکن ہےآپ کیسے جناب صحرا میںBadr Muneer
  19. یہ کس طرح کی زمیں پہ ہم نے بنائے شہر مراد رکھییہاں پہ کوئی گلاب موسم اتر بھی سکتا ہے اور نہیں بھیBadr Muneer
  20. آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہےAitbar Sajid
  21. آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیاکل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیاAitbar Sajid
  22. بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگکس نگری میں آ نکلے ہیں ساجدؔ ہم دیوانے لوگAitbar Sajid
  23. بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاںسچی ہیں یہ رفاقتیں باقی ہیں سب کہانیاںAitbar Sajid
  24. بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیسہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھیAitbar Sajid
  25. بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
  26. پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہےباہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہےAitbar Sajid
  27. پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھےAitbar Sajid
  28. پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئیاب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئیAitbar Sajid
  29. ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہےAitbar Sajid
  30. تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیںابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیںAitbar Sajid
  31. ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھاAitbar Sajid
  32. تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دومیں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دوAitbar Sajid
  33. تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیںAitbar Sajid
  34. جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہورات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہوAitbar Sajid
  35. جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےAitbar Sajid
  36. چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیںدر بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیںAitbar Sajid
  37. چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
  38. دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میںمچھلیاں جیسے مرتبانوں میںAitbar Sajid
  39. دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہمیں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہAitbar Sajid
  40. ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریخود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میریAitbar Sajid
  41. رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیااب اختتام باب ضروری سا ہو گیاAitbar Sajid
  42. زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیاکیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیاAitbar Sajid
  43. شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پررات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میںAitbar Sajid
  44. طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائےAitbar Sajid
  45. کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہےتجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہےAitbar Sajid
  46. کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیںہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیںAitbar Sajid
  47. کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیںمگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیںAitbar Sajid
  48. کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگیکہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگیAitbar Sajid
  49. کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہےیہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہےAitbar Sajid
  50. کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہاAitbar Sajid