Poetry
Poet
Meter
- بے چہرہ انسانوں کی اس بستی میںاچھا ہے آئینے توڑ دئے جائیںBadr Muneer
- تجھ کو خود سے منہا کرتےنا ممکن تھا ایسا کرتےBadr Muneer
- تری صورت میں رہائی مل گئیآنکھ کتنے منظروں میں قید تھیBadr Muneer
- جب وصل کا آئے گا ترے ساتھ صنم دناس دن کو حقیقت میں کہوں گا میں جنم دنBadr Muneer
- جس منظر کا حصہ تیری ذات نہیںمیری نظر میں اس کی کوئی اوقات نہیںBadr Muneer
- جیون ہے سڑک اور کنارے پہ کھڑے ہیںلگتا ہے کہ مدت سے اشارے پہ کھڑے ہیںBadr Muneer
- زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نےپھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھاBadr Muneer
- سپہ سالار کے جب ہاتھ کانپیں تو سپاہی بھیزیادہ دیر پھر میدان میں ٹھہرا نہیں کرتےBadr Muneer
- سمجھ میں آتا نہیں یہ کیسی نمو ہے مجھ میںوہ میری مٹی میں کچھ ملا کر چلا گیا ہےBadr Muneer
- طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔتو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چلBadr Muneer
- کب سے پہنچ گیا ہوں میں اس شخص کے قریبکہتی ہے پھر بھی اس کی نظر راستے میں ہوںBadr Muneer
- کوئی بھی سر میں نہیں ہے منیرؔ کیا کیجےیہ زندگی کا ترانہ ریاض مانگتا ہےBadr Muneer
- کیا خبر کون سا رستہ تری جانب نکلےبے ارادہ بھی کئی بار سفر کرتے ہیںBadr Muneer
- گو حرف و اشک دونوں تھے سامان گفتگوپھر بھی ہماری بات میں ابہام رہ گیاBadr Muneer
- مسکرا کر اگر وہ دیکھے توآئنے پر نشان پڑ جائےBadr Muneer
- میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوںنئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوںBadr Muneer
- یہ آئینوں کے ہیں یا نقص میرےبگڑتے جا رہے ہیں عکس میرےBadr Muneer
- یہ تو اہل جنوں کا مسکن ہےآپ کیسے جناب صحرا میںBadr Muneer
- یہ کس طرح کی زمیں پہ ہم نے بنائے شہر مراد رکھییہاں پہ کوئی گلاب موسم اتر بھی سکتا ہے اور نہیں بھیBadr Muneer
- آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہےاب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہےAitbar Sajid
- آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیاکل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیاAitbar Sajid
- بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگکس نگری میں آ نکلے ہیں ساجدؔ ہم دیوانے لوگAitbar Sajid
- بندے زمین اور آسماں سرما کی شب کہانیاںسچی ہیں یہ رفاقتیں باقی ہیں سب کہانیاںAitbar Sajid
- بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیسہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھیAitbar Sajid
- بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیںآ مرے دل مرے غم خوار کہیں اور چلیںAitbar Sajid
- پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہےباہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہےAitbar Sajid
- پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھےAitbar Sajid
- پھولوں میں وہ خوشبو وہ صباحت نہیں آئیاب تک ترے آنے کی شہادت نہیں آئیAitbar Sajid
- ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہےایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہےAitbar Sajid
- تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیںابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیںAitbar Sajid
- ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھاAitbar Sajid
- تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دومیں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دوAitbar Sajid
- تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیںAitbar Sajid
- جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہورات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہوAitbar Sajid
- جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے سے مفادات لیے پھرتے ہیںدر بدر خود کو جو دن رات لیے پھرتے ہیںAitbar Sajid
- چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھلوگ زندہ ہیں عجب صورت حالات کے ساتھAitbar Sajid
- دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میںمچھلیاں جیسے مرتبانوں میںAitbar Sajid
- دھڑکن دھڑکن یادوں کی بارات اکیلا کمرہمیں اور میرے زخمی احساسات اکیلا کمرہAitbar Sajid
- ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میریخود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میریAitbar Sajid
- رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیااب اختتام باب ضروری سا ہو گیاAitbar Sajid
- زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیاکیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیاAitbar Sajid
- شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پررات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میںAitbar Sajid
- طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائےAitbar Sajid
- کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہےتجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہےAitbar Sajid
- کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیںہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیںAitbar Sajid
- کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیںمگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیںAitbar Sajid
- کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگیکہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگیAitbar Sajid
- کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہےیہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہےAitbar Sajid
- کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہاAitbar Sajid