رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والا

Faheem Jogapuri

رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والا

اک ستارا ہے اسے دن میں بدلنے والا

دشمنی لاکھ نبھاتے رہیں کالے بادل

شام سے پہلے یہ سورج نہیں ڈھلنے والا

ہنسنے والے دیے خاموش نہ ہوں گے جب تک

گھر پہ ٹھہرا ہوا طوفاں نہیں ٹلنے والا

اپنے پیتل پہ چڑھاتے رہو سونے کے ورق

دل کی دنیا میں یہ سکہ نہیں چلنے والا

وہ مجھے دیکھ کے پھنکار رہا ہے ایسے

اژدہا جیسے کسی کو ہو نگلنے والا

آتش عشق ہے یہ کھیل نہ سمجھے کوئی

خاک ہو جاتا ہے اس آگ میں جلنے والا

چاہے سیلاب بلا گھیر لے آکر مجھ کو

میرے بھائی کا نہیں خون ابلنے والا

اتنا کمزور بھی سمجھے نہ کوئی مجھ کو فہیمؔ

غم کے دریا سے یہ کاغذ نہیں گلنے والا