پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سے

Faheem Jogapuri

پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سے

جو پونچھتی رہی اشکوں کو آستینوں سے

کبھی نہ دے گی سہارا شکستگی دل کی

سفر نہ کیجیے ٹوٹے ہوئے سفینوں سے

ترے خیال کی بارش میں بھیگنے کے لئے

ترس رہے ہیں اسیران دل مہینوں سے

سمجھ نہ پائیں گے یہ زاہدان سادہ دل

دلوں میں آگ بھڑکتی ہے آبگینوں سے

شکست جام مقدر کو ماننے والے

شراب کوئی ہو بنتی ہے وہ پسینوں سے

بجھے چراغ ستاروں کے دل لرز اٹھے

نگار صبح اترنے لگی ہے زینوں سے

انہیں سنبھالنے میں عمر کٹ گئی ہے فہیمؔ

ہماری سیپیاں کچھ کم نہیں نگینوں سے