خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئی

Faheem Jogapuri

خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئی

اک دودھ کے گلاس کو بلی گرا گئی

بادل دکھا کے آنکھوں میں سپنے سجا گئی

ساون کی رت بھی گاؤں کو الو بنا گئی

آئی تھی مجھ کو ڈھونڈنے سورج کی روشنی

لیکن گلی کے موڑ پہ رستہ بھلا گئی

کل صبح تھوڑی دیر مری آنکھ کیا لگی

دھوپ آ کے میرے گال پہ تھپڑ لگا گئی

بزدل ہوا کبھی نہ بتائے گی دل کی بات

کیا خوف تھا کہ میرے دلوں کو بجھا گئی

ہوتے ہی بھور گاؤں میں کہرام مچ گیا

اک نیل گائے سب کے ہرے کھیت کھا گئی

بیٹھی ہوئی تھی جھیل کنارے اداس رات

بتلائے کون کیسے یہاں تک وہ آ گئی

شوخی تو اس کی دیکھیے بازار میں فہیمؔ

جب بات کر نہ پائی تو انگلی دبا گئی