گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

Aitbar Sajid

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا

خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہے

چلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا

یوں ہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو

تم کسی دام طلب گار میں مت آ جانا

دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا

کسی امید کے منجدھار میں مت آ جانا

اچھے لگتے ہو کہ خود سر نہیں خوددار ہو تم

ہاں سمٹ کے بت پندار میں مت آ جانا

چاند کہتا ہوں تو مطلب نہ غلط لینا تم

رات کو روزن دیوار میں مت آ جانا