مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا

Aitbar Sajid

مجھے وہ کنج تنہائی سے آخر کب نکالے گا

اکیلے پن کا یہ احساس مجھ کو مار ڈالے گا

کسی کو کیا پڑی ہے میری خاطر خود کو زحمت دے

پریشاں ہیں سبھی کیسے کوئی مجھ کو سنبھالے گا

ابھی تاریخ نامی ایک جادوگر کو آنا ہے

جو زندہ شہر اور اجسام کو پتھر میں ڈھالے گا

بس اگلے موڑ پر منزل تری آنے ہی والی ہے

مرے اے ہم سفر تو کتنا میرا دکھ بٹا لے گا

شریک رنج کیا کرنا اسے تکلیف کیا دینی

کہ جتنی دیر بیٹھے گا وہی باتیں نکالے گا

رہا کر دے قفس کی قید سے گھایل پرندے کو

کسی کے درد کو اس دل میں کتنے سال پالے گا