جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا
Faheem Jogapuriجس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیا
دنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیا
اہل جنوں کو اپنے جنوں سے وہ عشق تھا
دل نے جگہ نہ دی تو اسے سر میں رکھ لیا
ننھا کوئی پرند اڑا جب تو یوں لگا
ہمت نے آسمان کو شہ پر میں رکھ لیا
آنکھوں نے آنسوؤں کو عجب اہتمام سے
موتی بنا کے دل کے سمندر میں رکھ لیا
ہم نے تمہاری دید کے لمحے سمیٹ کر
پھر سے پرانے خواب کی چادر میں رکھ لیا
کیا ڈر سما گیا کہ ہمارے حریف نے
تم جیسے شہسوار کو لشکر میں رکھ لیا
کچھ بات تھی جو ہم نے ستاروں کے درمیاں
ان آنسوؤں کو رات کے منظر میں رکھ لیا
آنکھیں تھکیں تو دل نے سہارا دیا فہیمؔ
ہم نے کسی کا عکس نئے گھر میں رکھ لیا