کون سا دل ہے جو شکار نہیں

Faheem Jogapuri

کون سا دل ہے جو شکار نہیں

اے ستم گر ترا شمار نہیں

شوق کو اب بھی اعتبار نہیں

دامن شوق تار تار نہیں

حسن جب حسن ہے کہ وار کرے

وار خالی رہے تو وار نہیں

تجھ سے کیا اختیار کی امید

دل کا جب دل پہ اختیار نہیں

تجھ سے مایوس کیا ہو کوئی صبا

دل کے موسم پہ اختیار نہیں

جھلملانے لگی امید کی لو

انتظار اور انتظار نہیں

کر دے مدھم امید کی شمعیں

بے قراروں کو اب قرار نہیں

اس نے مشق ستم سے کی توبہ

اب یہ رشتہ بھی استوار نہیں

زخم گل سے اداس ہے موسم

ان بہاروں پہ اب بہار نہیں

یاد ان کی فہیمؔ کم آئی

آج کچھ دل بھی سوگوار نہیں