دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئے

Faheem Jogapuri

دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئے

آج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئے

برہمن آئے ہیں زنار لیے ہاتھوں میں

حضرت شیخ بھی دستار سنبھالے آئے

ہم نے بے ساختہ کانٹوں کے دہن چوم لیے

جب کبھی دشت میں پھولوں کے حوالے آئے

ہجر کے درد بھی آنسو بھی ہے تنہائی بھی

ترے جاتے ہی مرے چاہنے والے آئے

اس کے دربار سے ہم خاک نشینوں کے لئے

پیرہن سونے کے چاندی کے دو شالے آئے

تاکہ زحمت نہ بنے اس کو اسیری اپنی

خود سے ہم پاؤں میں زنجیر کو ڈالے آئے