یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

Aitbar Sajid

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے

وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر

میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں

مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے

جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں

مرے دل کا الاؤں آج تک دیکھا نہیں جس نے

وہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں

یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میں

مرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں

ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے

محبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں

جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہے

مزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں