دیکھتی ہے نگاہ پانی میں
Faheem Jogapuriدیکھتی ہے نگاہ پانی میں
تخت عالم پناہ پانی میں
ہم سے سیلاب کا مزہ پوچھو
ہم ہوئے ہیں تباہ پانی میں
کیا سمجھتے ہیں آپ گنگا جل
دھل گئے کیا گناہ پانی میں
میں سناتا ہوں پتھروں کو غزل
اور ہوتی ہے واہ پانی میں
کشتئ دل کو اب پناہ کہاں
لہر ہے بے پناہ پانی میں
وہ مری مملکت میں آ ہی گئے
میں ہوا بادشاہ پانی میں
موج ہے یا ادا حسینوں کی
گاہ ساحل پہ گاہ پانی میں
آ ہی جائے گا راہ پر دریا
تم نکالو تو راہ پانی میں
تو بھی تشنہ ہے اور میں بھی ہوں
خوب ہوگی نباہ پانی میں
تیری آرام گاہ ساحل پر
میری آرام گاہ پانی میں
تو بتا کیوں فہیمؔ ڈوب گیا
تو رہا ہے گواہ پانی میں