جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نے
Faheem Jogapuriجب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نے
دل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نے
اس کو نفرت کی نگاہوں سے نہ دیکھے کوئی
عمر بھر خود کو بہت پیار کیا ہے اس نے
چومنا اس کو سلیقے سے ذرا باد صبا
ورق گل کو بھی تلوار کیا ہے اس نے
دھوپ آواز دے تو چھاؤں پکارے اس کو
کتنے عالم کو گرفتار کیا ہے اس نے
کیا کبھی شمع فروزاں سے کسی نے پوچھا
کیسے اک صبح کا دیدار کیا ہے اس نے