ذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہے
Faheem Jogapuriذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہے
تو بھی بولے تو سماعت پہ گراں ہوتا ہے
راز پنہاں تو بہرحال عیاں ہوتا ہے
لب جہاں ہلتے نہیں اشک رواں ہوتا ہے
اپنے ہونے کا جسے وہم و گماں ہوتا ہے
خود سے ملنے کا اسے وقت کہاں ہوتا ہے
لاکھ کوشش پہ بھی نکلا نہ سمانے والا
دل بھی کمبخت کوئی اندھا کنواں ہوتا ہے
ایک جنبش بھی جہاں وجہ ہلاکت ٹھہری
کوئی دیوانہ وہیں رقص کناں ہوتا ہے
عشق کے ساتھ نہ غم ہو تو اسے کیا کہیے
آگ کے ساتھ بہرحال دھواں ہوتا ہے
عزم پر عمر گذشتہ کی کوئی قید نہیں
جسم بوڑھا ہی سہی عزم جواں ہوتا ہے
تجھ کو سوچوں تو مری فکر غزل ہوتی ہے
اور جو دیکھوں تو احساس جواں ہوتا ہے
ہر عمل کا تو صلہ ہے اسی دنیا میں فہیمؔ
آدمی کو مگر احساس کہاں ہوتا ہے