کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر

Faheem Jogapuri

کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیر

پھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیر

دشمنی تو چاہنے کی انتہا کا نام ہے

یہ کہانی بھی ادھوری ہے محبت کے بغیر

تیری یادیں ہو گئیں جیسے مقدس آیتیں

چین آتا ہی نہیں دل کو تلاوت کے بغیر

دھوپ کی ہر سانس گنتے شام تک جو آ گئے

چھاؤں میں وہ کیا جئیں جینے کی عادت کے بغیر

بچ گیا دامن اگر میرے لہو کے داغ سے

وہ مرا قاتل تو مر جائے گا شہرت کے بغیر

اس کی سرداری سے اب انکار کرنا چاہیے

روشنی دیتا نہیں سورج سیاست کے بغیر

حسن کی دوکان ہو کہ عشق کا بازار ہو

یاں کوئی سودا نہیں ہے دل کی دولت کے بغیر

شبنمی چہرہ چھپاؤں کیسے بچوں سے فہیمؔ

شام آتی ہی نہیں گھر میں طہارت کے بغیر