کچھ کوہکن جو وقف زر و مال ہو گئے
Faheem Jogapuriکچھ کوہکن جو وقف زر و مال ہو گئے
تیشہ بدست ہو کے بھی کنگال ہو گئے
نام و نمود عزت و شہرت کمال و فن
یہ سب تو میری راہ کے جنجال ہو گئے
کل تک کٹورا لے کے جو پھرتے تھے در بدر
کیسے وہ ایک رات میں خوش حال ہو گئے
اک شخص کے نہ ہونے سے ویراں ہے شہر شہر
سنسان گاؤں گاؤں کے چوپال ہو گئے
طوفاں ستم کے تیر چلاتا ہی رہ گیا
پت جھڑ کے دن شجر کے لئے ڈھال ہو گئے
کیا خیریت فہیمؔ کی اب لینے آئے ہو
اس کو مرے ہوئے تو کئی سال ہو گئے