قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگا

Faheem Jogapuri

قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگا

اگر وہ بن گیا اک دن خدا تو کیا ہوگا

زوال فکر و نظر کا یہ سلسلہ اک دن

شکست فکر و نظر بن گیا تو کیا ہوگا

کبھی تو پوچھے کوئی روشنی فروشوں سے

اگر چراغ محبت بجھا تو کیا ہوگا

نمی مکان کی سہمی ہوئی ہے موسم سے

گھٹا جو ہو گئی مجھ سے خفا تو کیا ہوگا

گھنیرے پیڑ کے سائے میں ہنسنے والے چراغ

جو اپنے رخ کو بدل دے ہوا تو کیا ہوگا

غزال زد میں ابھی ہے شکار کر لے فہیمؔ

نشانہ ہو گیا پھر بے وفا تو کیا ہوگا