برا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

Yaqoob Saqi

برا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

خطا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

تیرے ظلم و تشدد کا تیری شعلہ بیانی کا

گلہ کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

ہم اپنی نسل کے اس زرد اور سوکھے گلستاں کو

ہرا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

ہماری دسترس میں ہے بھلائی پھر غریبوں کا

بھلا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

دلوں سے ہر وہ خواہش جو ہمیں برباد کرتی ہے

جدا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

بہم نفرت کے ناسوروں کی جو سینوں میں پلتے ہیں

دوا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے

ہم اپنے خون سے کر کے وضو اب بھی نماز حق

ادا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتے