یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیں

Saadat Aabidi

یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیں

تجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیں

تنقید و طنز کی سبھی ضربوں کے باوجود

شیشوں میں کوئی بال نہیں ہے تو کیوں نہیں

آئینوں کو دکھا سکیں بے خوف آئنہ

لوگوں میں یہ مجال نہیں ہے تو کیوں نہیں

بس ایک ہی سوال مسیحائے وقت سے

زخموں کا اندمال نہیں ہے تو کیوں نہیں

دھوکے دغا فریب سیاست کو کیوں عروج

شاعر کو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیں

ہولی تو آئی ہے وہی لیکن ہے بات کیا

چہروں پہ وہ گلال نہیں ہے تو کیوں نہیں

کچھ فکر ہو تو تجھ کو سعادتؔ یہ فکر ہو

تیری کوئی مثال نہیں ہے تو کیوں نہیں