میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس

Yaqoob Parwaz

میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس

تجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بس

کیوں سمجھتے ہو مجھے منزل نما

ٹیڑھا‌ میڑھا راستا ہوں اور بس

ہے ابھی محدود میری آگہی

میں تو اتنا جانتا ہوں اور بس

کوئی تو کھولے مری پیچیدگی

میں کسی کا زائچہ ہوں اور بس

اب کسی ترمیم کا مت سوچنا

میں مکمل فیصلہ ہوں اور بس

ڈھونڈھنا مجھ کو کوئی مشکل نہیں

بھیڑ میں کھویا ہوا ہوں اور بس

کس جگہ اور کب برسنا ہے مجھے

میں تو اک امڈی گھٹا ہوں اور بس

لاکھ ہوں پرواز پر اسرار میں

خود ہی اپنا ترجمہ ہوں اور بس