اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو
Yaqoob Parwazاس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو
دھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کو
عمر بھر سورج بھی جن کی دید سے قاصر رہے
ان حیا داروں کے اٹھتے ہیں جنازے رات کو
زیست کا سرمایہ ہے یادیں انہی لمحات کی
ماؤں سے جب لوریاں سنتے تھے بچے رات کو
بن گئے ہیں رہزنوں کے واسطے جائے اماں
اور مسافر کے لئے ہیں موت رستے رات کو
اس طرح اب تو گزرتی ہے مری عمر رواں
کھانستے ہیں جس طرح پرواز بوڑھے رات کو