یا رب کبھی قبول مری یہ دعا بھی ہو

Yaqoob Saqi

یا رب کبھی قبول مری یہ دعا بھی ہو

تو نے بدن دیا ہے بدن پر قبا بھی ہو

بیٹھے ہیں دل میں لے کے بلندی کی آرزو

لیکن ہمارے خون میں پیدا ہما بھی ہو

تیرہ شبی کا راز سمجھ پائے گا وہی

جو آفتاب ہو کے کہیں پر بجھا بھی ہو

مغروریت کی حد کو کہیں وہ نہ جا لگے

ہر آدمی میں حسب ضرورت انا بھی ہو

صحرا میں رقص کرنے سے کچھ فائدہ نہیں

اے ابر آ ادھر کہ یہ جنگل ہرا بھی ہو