فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہے

Saadat Aabidi

فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہے

بہار گلستاں مثل خزاں معلوم ہوتی ہے

کچھ اپنوں کا کرم ہے کچھ نگاہ عصر حاضر ہے

حیات اک حسرتوں کی داستاں معلوم ہوتی ہے

عجب تحقیر سی تفریق و بے زاری سی نفرت سی

درون قلب میر کارواں معلوم ہوتی ہے

دلوں میں مسجدوں میں مندروں میں درس گاہوں میں

سیاست ہی سیاست حکمراں معلوم ہوتی ہے

گرانی رشوتیں گھپلے غبن افساد گولی بم

یہی آزادیٔ ہندوستاں معلوم ہوتی ہے

خوشامد اس قدر بھی ساتھیو اچھی نہیں لگتی

تمہارے منہ میں اوروں کی زباں معلوم ہوتی ہے

سعادتؔ جھانک ان کے دل میں خود نفرت بھری ہوگی

یہ دنیا جن کو نفرت کا جہاں معلوم ہوتی ہے