زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کی

Saadat Aabidi

زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کی

صبح کو ہوتی ہے جو حالت چراغ شام کی

کھا رہے ہیں روٹیاں جو چین سے آرام کی

لکھ رہے ہیں کیفیت وہ گردش ایام کی

جس میں سب ننگے ہیں جو ننگا نہیں وہ بھی شمار

اور یہی اک خاصیت ہے اپنے اس حمام کی

چہرۂ حالات کو اچھی طرح پڑھ اور پھر

آج کی دنیا بتا راون کی ہے کہ رام کی

آشتی آہستگی زندہ دلی افتادگی

زندگی میں گر نہیں تو زندگی کس کام کی

فلسفے اور فلسفوں کا حل سبھی مل جائے گا

بیٹھ فرصت سے رباعیات پڑھ خیام کی

کس تجسس میں سعادتؔ اور کس تحقیق میں

صبح اپنی دوپہر کی دوپہر کی شام کی