راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں
Yaqoob Parwazراہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں
کون جانے کہ اصل کیا ہوں میں
وہ جو عبرت کا اک نشاں ٹھہرے
باغ والوں کو جانتا ہوں میں
مجھ سے خلق خدا لرزتی ہے
کس نوعیت کا پارسا ہوں میں
سادگی کو بھی جس پہ رشک آئے
اس تکلف کی انتہا ہوں میں
کس نے دیکھا یہ دیکھنا میرا
دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں
بھیڑیے کی نگاہ ہے جن پر
ایسی بھیڑوں کو ہانکتا ہوں میں