انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میں

Saadat Aabidi

انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میں

ورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میں

ہوش و خرد کو کام میں لایا نہ تو نہ میں

اس واسطے کمال کو پہنچا نہ تو نہ میں

سمجھوتہ کر لیں بیٹھ کے آ اے مرے ضمیر

سمجھوتہ مصلحت سے کرے گا نہ تو نہ میں

حالات حاضرہ کی نظر ہے بہت عمیق

حالات حاضرہ سے بچے گا نہ تو نہ میں

ذلت سوائے کچھ نہ ملے گا جو ہوتا علم

اپنوں کو اپنا حال سناتا نہ تو نہ میں

شاید اسی لئے کہ نہیں کیں خوشامدیں

منزل کو اپنی کوئی بھی پہنچا نہ تو نہ میں

اک شہر درد مند جو ہوتا ہمارا شہر

اتنا نڈھال درد سے ہوتا نہ تو نہ میں