کسی سے بھیک میں زاد سفر نہیں لیتا

Yaqoob Saqi

کسی سے بھیک میں زاد سفر نہیں لیتا

میں چیخ چیخ کے داد ہنر نہیں لیتا

مرا نصیب ہے خانہ بدوشیاں میری

کہیں بھی جاؤں کرائے کا گھر نہیں لیتا

ہر ایک جنگ میں وہ کامیاب ہوتا ہے

ذہین ہاتھ میں تیغ و تبر نہیں لیتا

میں اپنی ضو سے اگاتا ہوں چاند اور تارے

ہوائیں لاکھ چلیں میں اثر نہیں لیتا

پتہ نہیں ہے کہ کس حال میں کہاں ہوں میں

کئی دنوں سے میں اپنی خبر نہیں لیتا