یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میں

Sabiha Sumbul

یہ مانا تم ہو زمانے کے با کمالوں میں

تو ہم بھی خود کو سمجھتے ہیں بے مثالوں میں

وفا کا نام نہیں شہر کے غزالوں میں

ملے گا زہر یہاں مد بھرے پیالوں میں

مہک اٹھا ہے مری آرزو کا شیش محل

یہ کون آ کے بسا ہے مرے خیالوں میں

ہمارے پاس تھا ہر بات کا جواب مگر

الجھ کے رہ گئے ہم آپ کے سوالوں میں

ہم ان کے ہنسنے کا انداز کیا کہیں سنبلؔ

کہ جیسے دور بجیں گھنٹیاں شوالوں میں