فضا میں شور تلاطم ہو رنگ و بو بھی ہو

Yaqoob Saqi

فضا میں شور تلاطم ہو رنگ و بو بھی ہو

زمین شہر ستم گر لہو لہو بھی ہو

ہر اک مقام مقام صدا نہیں ہوتا

خموش میں بھی رہوں اور خموش تو بھی ہو

فصیل وہم و گماں کے نشان بھی نہ رہیں

مزا تو جب ہے کسی روز دو بدو بھی ہو

ہوں منزلیں تیرے زیر قدم تو لازم ہے

تڑپ ہو دل میں کوئی خاص جستجو بھی ہو

میں چاہتا ہوں وہ میرا رفیق ہو جائے

وہ دل سے ہاتھ ملائے یہ اس میں خو بھی ہو

ہیں منتظر یہ ہوائیں کہ دھجیاں اڑ جائیں

تو اپنا چاک گریباں کہیں رفو بھی ہو

یوں اشک آتے ہیں آنکھوں میں دید سے پہلے

نگاہ دید کے قابل ہو با وضو بھی ہو