کون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرے
Sabiha Sumbulکون ایسا ہے یہاں دل سے مجھے یاد کرے
وقت تھوڑا سا مرے واسطے برباد کرے
ہو گئیں بستیاں ویران یہاں پل بھر میں
کوئی تو آئے جو پھر سے انہیں آباد کرے
پا بہ زنجیر کوئی دار پہ منصور نہیں
حق کی باتوں پہ بھلا کون یہاں صاد کرے
کیسا پندار ہے دل قید ہیں خوشیاں جس میں
ان پرندوں کو ہی آزاد یہ صیاد کرے
مردہ جسموں میں مقید ہیں تڑپتی روحیں
کوئی زندان نہاں سے انہیں آزاد کرے
جس کی بنیاد محبت کی ہو ضامن سنبلؔ
ایسا اک شہر یہاں کوئی تو آباد کرے