کوئی موسم ہو نظر سود و زیاں جانتی ہے

Yaqoob Saqi

کوئی موسم ہو نظر سود و زیاں جانتی ہے

بات جو دل میں ہے بیٹی کے وہ ماں جانتی ہے

مدتیں چاہئیں کیا ہوں میں سمجھنے کے لئے

یہ ہوا اور یہ فضا مجھ کو کہاں جانتی ہے

تیری نیت ترا منشا تری فطرت معلوم

آنکھ میری تری نظروں کی زباں جانتی ہے

زندہ ذہنوں سے گزارش ہے بجھائیں ورنہ

آگ نفرت کی غریبوں کے مکاں جانتی ہے

موسم گل ہے نگاہوں میں نہ رت ساون کی

آج کی نسل تو آگ اور دھواں جانتی ہے

میری نس نس میں جو تحلیل ہوئی جاتی ہے

پاس بیٹھی ہوئی لڑکی یہ کہاں جانتی ہے

کوئی پڑھتا ہے بڑے شوق سے ساقیؔ کو پڑھے

ساری دنیا مرا انداز بیاں جانتی ہے