یہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے
Saadat Aabidiیہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے
کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے
بہت ہشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں
نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے
کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں
عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے
جہاں سب بک رہا ہو اس جگہ ایسا بھی ممکن ہے
مرے ہی قتل کا الزام میرے سر نکل آئے
در تقدیس کو جب وا کیا تو قصر حرمت سے
بتاؤں کس زباں سے کتنے سوداگر نکل آئے
تمہارا اور تمہارے نظم کا اس روز کیا ہوگا
کبھی سوچا ہے دیواروں میں جس دن در نکل آئے
سعادتؔ آپ اس دیدہ وروں کی بھیڑ میں ڈھونڈیں
بہت ممکن ہے ان میں کوئی دیدہ ور نکل آئے