کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ

Yaqoob Parwaz

کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ

اب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچ

کچھ خبر بھی ہے مری کٹیا تجھے

گھر گئی ہے کتنے زرداروں کے بیچ

دیکھ کر دشمن مرا رونے لگا

کھلکھلایا میں جو انگاروں کے بیچ

کیا کرے گا سر پکڑنے کے سوا

اک مسیحا اتنے بیماروں کے بیچ

جانے کیوں دیوار ٹیڑھی ہو گئی

اور وہ بھی اتنے معماروں کے بیچ

میرا گریہ رائیگاں جانے لگا

کیا ہوا حاصل ریاکاروں کے بیچ

رہ سکیں گی کس طرح پرواز خوش

چند سانسیں اتنے آزاروں کے بیچ