Poetry

Poet
Meter
  1. بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جاناکرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جاناZafar Mehdi
  2. تابش چشم تر میں رہتے ہیںعکس دیوار و در میں رہتے ہیںZafar Mehdi
  3. خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہوگل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہوZafar Mehdi
  4. زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
  5. محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
  6. میرے قبضے میں لب کشائی ہےاب اسیری نہیں رہائی ہےZafar Mehdi
  7. میں خود کو آزمانا چاہتا ہوںہوا پر آشیانہ چاہتا ہوںZafar Mehdi
  8. یہ جو فطرت میں خاکساری ہےباعث فخر وضع داری ہےZafar Mehdi
  9. ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیںدعاؤں میں اثر جاتا رہا ہےZafar Mehdi
  10. ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتاکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتاعزیز الحسن غوری
  11. پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیںکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیںعزیز الحسن غوری
  12. جلوہ فرما دیر تک دل بر رہااپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہاعزیز الحسن غوری
  13. دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہےکیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہےعزیز الحسن غوری
  14. نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںعزیز الحسن غوری
  15. نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گاتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گاعزیز الحسن غوری
  16. وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوںبڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوںعزیز الحسن غوری
  17. وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانایہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جاناعزیز الحسن غوری
  18. ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئیعزیز الحسن غوری
  19. ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیاعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیاعزیز الحسن غوری
  20. پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذتجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذتآفتاب شاہ عالم ثانی
  21. جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیںتیر سی دل کے پار ہوتی ہیںآفتاب شاہ عالم ثانی
  22. دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیںجوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیںآفتاب شاہ عالم ثانی
  23. عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میںکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میںآفتاب شاہ عالم ثانی
  24. کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کروکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کروآفتاب شاہ عالم ثانی
  25. کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
  26. گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
  27. گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
  28. میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی
  29. آرزو پہ جفا کرے کوئیپھر خفا ہو خدا کرے کوئیاحمد شاہ خاں شبنم
  30. آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرحسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرحاحمد شاہ خاں شبنم
  31. بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرضمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرضاحمد شاہ خاں شبنم
  32. تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہےایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہےاحمد شاہ خاں شبنم
  33. تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیںاحمد شاہ خاں شبنم
  34. جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپاحمد شاہ خاں شبنم
  35. جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہممل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہماحمد شاہ خاں شبنم
  36. فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگآپ اپنا جواب ہیں ہم لوگاحمد شاہ خاں شبنم
  37. کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیراپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرااحمد شاہ خاں شبنم
  38. بحث بے کار کر رہا ہوں میںجبر ناچار کر رہا ہوں میںEhsaan Sabz
  39. تمہارے بعد تمہارا خیال آیا ہےمیں لا جواب ہوں کیسا سوال آیا ہےEhsaan Sabz
  40. زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتےزمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتےEhsaan Sabz
  41. سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھےمحبت تھی جھمیلے تو نہیں تھےEhsaan Sabz
  42. کیسی تنہائی ہے نظاروں میںسانس رکتا ہے خار زاروں میںEhsaan Sabz
  43. کیوں خطا ہیں ترے اوسان مری جان بتاہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتاEhsaan Sabz
  44. لوگ پرائے ہو جاتے ہیںنہیں پلٹتے جو جاتے ہیںEhsaan Sabz
  45. مسکرانا چھوڑ دیںدل لگانا چھوڑ دیںEhsaan Sabz
  46. وہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوںمیں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوںEhsaan Sabz
  47. اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
  48. تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
  49. دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
  50. رنگ دیکھا تری طبیعت کاہو چکا امتحاں محبت کافروغ حیدرآبادی