Poetry
Poet
Meter
- بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جاناکرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جاناZafar Mehdi
- تابش چشم تر میں رہتے ہیںعکس دیوار و در میں رہتے ہیںZafar Mehdi
- خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہوگل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہوZafar Mehdi
- زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
- محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
- میرے قبضے میں لب کشائی ہےاب اسیری نہیں رہائی ہےZafar Mehdi
- میں خود کو آزمانا چاہتا ہوںہوا پر آشیانہ چاہتا ہوںZafar Mehdi
- یہ جو فطرت میں خاکساری ہےباعث فخر وضع داری ہےZafar Mehdi
- ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیںدعاؤں میں اثر جاتا رہا ہےZafar Mehdi
- ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتاکہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتاعزیز الحسن غوری
- پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیںکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیںعزیز الحسن غوری
- جلوہ فرما دیر تک دل بر رہااپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہاعزیز الحسن غوری
- دل ربا پہلو سے اب اٹھ کر جدا ہونے کو ہےکیا غضب ہے کیا قیامت ہے یہ کیا ہونے کو ہےعزیز الحسن غوری
- نظارے ہوئے ہیں اشارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںعزیز الحسن غوری
- نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گاتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گاعزیز الحسن غوری
- وفا کر کے اس کا صلا چاہتا ہوںبڑا ناسزا ہوں سزا چاہتا ہوںعزیز الحسن غوری
- وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانایہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جاناعزیز الحسن غوری
- ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئیعزیز الحسن غوری
- ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیاعالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیاعزیز الحسن غوری
- پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذتجو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذتآفتاب شاہ عالم ثانی
- جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیںتیر سی دل کے پار ہوتی ہیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیںجوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیںآفتاب شاہ عالم ثانی
- عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میںکر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میںآفتاب شاہ عالم ثانی
- کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کروکل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کروآفتاب شاہ عالم ثانی
- کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
- گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالیتس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالیآفتاب شاہ عالم ثانی
- گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
- میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی
- آرزو پہ جفا کرے کوئیپھر خفا ہو خدا کرے کوئیاحمد شاہ خاں شبنم
- آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرحسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرحاحمد شاہ خاں شبنم
- بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرضمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرضاحمد شاہ خاں شبنم
- تیری ابرو پہ صنم کیا ہی یہ خال اچھا ہےایسے کعبہ کے لئے یہ ہی بلال اچھا ہےاحمد شاہ خاں شبنم
- تیرے در پہ جلوہ جو ہم دیکھتے ہیںخدا کی خدائی میں کم دیکھتے ہیںاحمد شاہ خاں شبنم
- جب یہ پوچھا کہ کب ملیں گے آپہنس کے بولے کہ جب ملیں گے آپاحمد شاہ خاں شبنم
- جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہممل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہماحمد شاہ خاں شبنم
- فرد ہیں انتخاب ہیں ہم لوگآپ اپنا جواب ہیں ہم لوگاحمد شاہ خاں شبنم
- کس جگہ جلوہ نہیں اے مہ تاباں تیراپا ہی جاتا ہے تجھے ہر کہیں خواہاں تیرااحمد شاہ خاں شبنم
- بحث بے کار کر رہا ہوں میںجبر ناچار کر رہا ہوں میںEhsaan Sabz
- تمہارے بعد تمہارا خیال آیا ہےمیں لا جواب ہوں کیسا سوال آیا ہےEhsaan Sabz
- زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتےزمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتےEhsaan Sabz
- سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھےمحبت تھی جھمیلے تو نہیں تھےEhsaan Sabz
- کیسی تنہائی ہے نظاروں میںسانس رکتا ہے خار زاروں میںEhsaan Sabz
- کیوں خطا ہیں ترے اوسان مری جان بتاہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتاEhsaan Sabz
- لوگ پرائے ہو جاتے ہیںنہیں پلٹتے جو جاتے ہیںEhsaan Sabz
- مسکرانا چھوڑ دیںدل لگانا چھوڑ دیںEhsaan Sabz
- وہیں پر ہوں جہاں رکتا رہا ہوںمیں اپنے آپ سے اکتا رہا ہوںEhsaan Sabz
- اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرامجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرافروغ حیدرآبادی
- تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
- دل نہیں ملنے کا پھر میرا ستم گر ٹوٹ کرچیز یہ ایسی نہیں جڑ جائے گی جو پھوٹ کرفروغ حیدرآبادی
- رنگ دیکھا تری طبیعت کاہو چکا امتحاں محبت کافروغ حیدرآبادی