ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ
Yaqoob Parwazویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ
گنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگ
دستار کے حصول کا کوئی تو ہو جواز
کس زعم میں ہیں مبتلا یہ سر بریدہ لوگ
اے کاش اپنی موت ہی مرتے تو تھا مزا
جاں سے گزر گئے ہیں جو مردم گزیدہ لوگ
کوئی تو پشتی بان ہے ان کا یہیں کہیں
کب بیٹھتے ہیں چین سے دامن دریدہ لوگ
کھینچے گی طول کب تلک مہلت ملی ہوئی
فرعون بن گئے ہیں ترے آفریدہ لوگ
پروازؔ جن کی دید کو آنکھیں ترس گئیں
لائیں کہاں سے ڈھونڈ کے ایسے چنیدہ لوگ