تو ہے آب زندگی تو ہے شباب‌ زندگی

Saadat Aabidi

تو ہے آب زندگی تو ہے شباب‌ زندگی

تجھ سے ہی سب کیف ہے تو ہے شراب زندگی

تیرا آنا ہے طلوع ماہتاب زندگی

اور ترا جانا غروب آفتاب زندگی

تیرا جانا ٹوٹنا تار رباب زندگی

تو اگر آ جائے تو کھل جائے باب زندگی

زندگی ملتی ہے بس اس کو جسے مل جائے تو

دیکھتے ہیں یوں تو لاکھوں لوگ خواب زندگی

اطمینان قلب سے وہ لوگ ہیں نا آشنا

جن کو یہ ڈر ہے کہ دینا ہے حساب زندگی

اک مکمل عبرتوں کا درس دیتی ہے جناب

پڑھ کے دیکھیں تو کبھی اپنی کتاب زندگی

اے سعادتؔ ان کو پینے کا بھی کوئی حق نہیں

تلخ جن لوگوں کو لگتی ہے شراب زندگی