گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میں
Saadat Aabidiگھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میں
اپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میں
دیواریں روک پائیں وہ پانی نہیں ہوں میں
پھر جائے جس کا رخ وہ روانی نہیں ہوں میں
ڈھالی گئی نیت مری سیرت کی آنچ سے
صورت پہ مر مٹے وہ جوانی نہیں ہوں میں
حالات حاضرہ کی تپش کی دلیل ہوں
ماضی کی بھولی بصری کہانی نہیں ہوں میں
زندہ رہوں گا ان کے تعارف کی شکل میں
صرف اپنے بزرگوں کی نشانی نہیں ہوں میں
تکمیل خواہشات کا آثار ہوں میاں
پرکھو مجھے نشان گرانی نہیں ہوں میں
زندہ رکھے گا مجھ کو سعادتؔ مرا کلام
کہہ دیجئے گا موت سے فانی نہیں ہوں میں