میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیے

Sabiha Sumbul

میں بکھر نہ جاؤں ورق ورق مجھے طاق دل میں سجائیے

مرا حرف حرف ہے بے بہا مجھے اس طرح نہ مٹائیے

ہے کدورتوں کے حصار میں یہ محبتوں کا حسیں نگر

یہ دیار آب حیات ہے اسے سم کدہ نہ بنائیے

کوئی عکس تک نہ ٹھہر سکا مری چشم فکر و خیال میں

ابھی اجنبی سے ہیں خال و خد مجھے آئنہ نہ دکھائیے

پس ظلم آپ کی بخششیں یہ عنایتیں یہ سخاوتیں

کوئی مانگ بیٹھے نہ خوں بہا یہ لہو کے داغ چھپائیے

ہو دلوں میں حسن قلندری ہو زباں پہ نعرۂ سرمدی

جو ہلا دے تخت سکندری وہی کج کلاہی دکھائیے

ہے خزاں کی زد پہ ابھی تلک رخ سنبلؔ دل یاسمیں

ابھی انتظار کا وقت ہے ابھی جشن گل نہ منائیے