مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہوا

Sabiha Sumbul

مری زندگی کی کتاب کا ہے ہر اک ورق یوں سجا ہوا

کہیں آنسوؤں سے لکھا ہوا کہیں شوخیوں سے بھرا ہوا

مری آرزؤں کی تتلیاں یہ مسل کے کون چلا گیا

مری جنتیں کہاں گم ہوئیں مرے خواب زاروں کا کیا ہوا

وہی رنگ و نور کی بارشیں وہی پھول ہیں وہی خوشبوئیں

مرے ہم سفیر کہاں گئے مرے ہم جلیسوں کا کیا ہوا

کہیں گم نہ ہو یہ رسوم میں کہیں کھو نہ جائے ہجوم میں

یہ مری جبین نیاز پر جو ہے ایک سجدہ سجا ہوا

تری قربتیں تری چاہتیں سبھی نفرتوں میں بدل گئیں

میں تو ابتدا سے تھی بے وفا وہ تری وفاؤں کا کیا ہوا

مجھے گدگداتا ہے آج بھی ترے غور‌ و فکر کا سلسلہ

وہ شریر آنکھیں جھکی جھکی وہ قلم لبوں میں دبا ہوا

کوئی روشنی کی رمق نہیں نہ کوئی دھوئیں کا نشان ہے

یہ دیا بھی سنبلؔ عجیب ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا