یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے

Yaqoob Parwaz

یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے

نکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلے

اسی کے نام کر ڈالے ہیں میں نے رت جگے اپنے

کسی کا نام لیتا ہے جو میرے نام سے پہلے

تمہارے آتشیں لہجے سے ہم خائف نہیں لیکن

ہماری بات تو سن لو ذرا آرام سے پہلے

سکوت شہر خاموشاں بھی جس پر رشک فرمائے

کچھ ایسی کیفیت ہوتی ہے ہر کہرام سے پہلے

رہین آب و دانہ ہی سہی آوارگی اپنی

گھروں کو لوٹ آتے ہیں پرندے شام سے پہلے

بہ ہر صورت انہیں رنج اسیری تو اٹھانا ہے

نظر دانے پہ ہے پرواز جن کی دام سے پہلے