کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے

Yaqoob Parwaz

کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے

آخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہے

ظلمت کا اشتہار بنے پھر رہے ہیں ہم

سوچو اگر تو یہ بھی زیاں چاندنی کا ہے

یہ روشنی کا شہر ہے کیسا کہ اب یہاں

دیکھا جسے بھی نوحہ کناں چاندنی کا ہے

اس شہر بے چراغ سے آؤ نکل چلیں

وہ اس لئے کہ شور یہاں چاندنی کا ہے

نا بینگی کے روگ میں ہیں مبتلا وہی

پروازؔ جن کا اپنا مکاں چاندنی کا ہے