Poetry
Poet
Meter
- عمر آدھی عشق کی وہ یوں گنواتا رہ گیابے وفا کہہ کر مجھے بس آزماتا رہ گیاParul Singh Noor (b. 1989)
- غم چراتے رو پڑے تھےہم ہنساتے رو پڑے تھےParul Singh Noor (b. 1989)
- کسر کوئی نہ چھوڑی ٹوٹنے کا ڈر بنانے میںکسے پھر دوش دیں ہم اپنا دل پتھر بنانے میںParul Singh Noor (b. 1989)
- میں کب سے در بہ در ہوں مجھ کو در دکھابہت ہوا تو آخر سفر دکھاParul Singh Noor (b. 1989)
- نسل یہ جو رب سے منت مانگتی ہےتھوڑی محنت بھی تو قسمت مانگتی ہےParul Singh Noor (b. 1989)
- وہ اپنے دل کو میں نے خط لکھا تھا ناتو ہی کہتا تھا وہ تیرا پتہ تھا ناParul Singh Noor (b. 1989)
- جو میری چھت کا رستہ چاند نے دیکھا نہیں ہوتاتو شاید چاندنی لے کر یہاں اترا نہیں ہوتاChitransh Khare (b. 1989)
- دونوں کی آرزو میں چمک برقرار ہےمیں اس طرف ہوں اور وہ دریا کے پار ہےChitransh Khare (b. 1989)
- کائنات آرزو میں ہم بسر کرنے لگےسب بہت نفرت سے کیوں ہم پر نظر کرنے لگےChitransh Khare (b. 1989)
- لوگ سارے بھلے نہیں ہوتےہاں مگر سب برے نہیں ہوتےChitransh Khare (b. 1989)
- محبت کی گلی سے ہم جہاں ہو کر نکل آئےہمارے حال پر کوئی بھی ہوتا جی نہیں پاتاChitransh Khare (b. 1989)
- ہمارے صبر کا اک امتحان باقی ہےاسی لئے تو ابھی تک یہ جان باقی ہےChitransh Khare (b. 1989)
- یہ حادثہ مری آنکھوں سے گر نہیں ہوتاتو کوئی غم بھی مرا ہم سفر نہیں ہوتاChitransh Khare (b. 1989)
- اک تصویر پہ کھینچ رکھے ہیں تو نے کتنے رنگ کے دکھمیرے مصور تجھ سے بنے نئی لیکن میرے ڈھنگ کے دکھVikram (b. 1990)
- پیاسے کو پانی برسانا پڑتا ہےساگر کو بادل بن جانا پڑتا ہےVikram (b. 1990)
- تری چھون کی خفی روشنی سے جل جاتابدن چراغ تری روشنی سے جل جاتاVikram (b. 1990)
- دریا کی دسترس میں روانی کے ساتھ ساتھاک پیاس جنم لیتی ہے پانی کے ساتھ ساتھVikram (b. 1990)
- دل ویران کا ثانی نہیں ہےکسی میں ایسی ویرانی نہیں ہےVikram (b. 1990)
- رقصاں یہ کائنات ہے چل رقص کرتے ہیںہر ایک شے نشاط ہے چل رقص کرتے ہیںVikram (b. 1990)
- روز شب خون مارتی ہے ہوسروح سے روز ہارتی ہے ہوسVikram (b. 1990)
- صحرا نوردیوں کے عوض گھر دیا گیاپیاسی ندی کو خارا سمندر دیا گیاVikram (b. 1990)
- ظلمات کا سفر ہے چلو بولتے رہوکھو جاؤ گے خموش نہ ہو بولتے رہوVikram (b. 1990)
- علاج غم وہ پیہم کر رہے ہیںمرے غم خوار ماتم کر رہے ہیںVikram (b. 1990)
- کوئی غم نہ تھا مگر اے پری زاد روئے ہماک رسم بھر نبھائی ترے بعد روئے ہمVikram (b. 1990)
- کئی ندیاں مجھ میں بہہ نکلیں مری مٹی نم کرنے کے لیےکئی سورج مجھ میں ڈوب گئے مرا سایا کم کرنے کے لیےVikram (b. 1990)
- لہر پہ بنتے بگڑتے حباب کی صورتہمیں جو نیند بھی آئی تو خواب کی صورتVikram (b. 1990)
- نیند نگری میں پھر اجالا ہےخواب مہمان آنے والا ہےVikram (b. 1990)
- وحشت کی بات ہو تو بلا شک فرید ہیںپر عشق میں تو قیس جی میرے مرید ہیںVikram (b. 1990)
- ہیں کب سے پیاسی یہ میری آنکھیں مگر نظر میں ندی نہیں ہےاپھان پر ہیں کئی سمندر بدن نگر میں ندی نہیں ہےVikram (b. 1990)
- آج اک کہانی میںیہ پڑھا کہ تھا کوئیVikram (b. 1990)
- اک جنگل میں آگ لگی ہےساری ندیاں سوکھ رہی ہیںVikram (b. 1990)
- اک دن پارک کی بنچ پہ یوں ہیکیا جانے کیا سوچ کے تم نےVikram (b. 1990)
- اک ندی کے تٹ پہ میںجانے کب سے بیٹھا ہوںVikram (b. 1990)
- زمیں نے سگریٹ جلا رکھی ہےاک دو دس سو ہزارVikram (b. 1990)
- کئی راتیں وہاں بیڈروم میں بیٹھی ہوئی ہیںنہ سوتی ہیں نہ کچھ کہتی ہیں بیٹھی گھورتی ہیںVikram (b. 1990)
- لائیو ٹی وی سے اوب کرمیں نے لائیو ٹی وی پر آتم ہتیا کر لیVikram (b. 1990)
- میں اداس لوگوں سےجتنی بار ملتا ہوںVikram (b. 1990)
- میں اک نشیڑیجو زندگی کے نشہ میں دھت تھاVikram (b. 1990)
- میں ایک چھچھلا آدمی ہوںمیرے دوست بھی میری طرح ہی ہیںVikram (b. 1990)
- میں روز راتوں میں جاگ جاتا ہوں چیخ کر کےوہ ایک سپنا مجھے ہر اک دن ڈرا رہا ہےVikram (b. 1990)
- میں نے ایک کویتا لکھیسب کو سمجھ آ گئیVikram (b. 1990)
- ندی کے تٹ پرایک بنچ پرVikram (b. 1990)
- وہ لکھنا چاہتے تھےسو انہوں نے لکھاVikram (b. 1990)
- ہم شریف انسانوںکی عجیب عادت ہےVikram (b. 1990)
- ہوا نے چپکے سےایک پودے کے کان میںVikram (b. 1990)
- ہزاروں سال پہلے جبزمیں پر سب سموچہ تھاVikram (b. 1990)
- یہ جو آواز آتی ہےکبھی مندر کبھی مسجد کی جانب سےVikram (b. 1990)
- تمہاری موتتمہاری ماں کی کوکھ سےVikram (b. 1990)
- کہیں کسی چھوٹے سے شہر کےکسی محلے کے ایک گھر میںVikram (b. 1990)
- گھوڑےجنہوں نے لاکھ چابک سہ کر بھیVikram (b. 1990)