عمر آدھی عشق کی وہ یوں گنواتا رہ گیا

Parul Singh Noor (b. 1989)

عمر آدھی عشق کی وہ یوں گنواتا رہ گیا

بے وفا کہہ کر مجھے بس آزماتا رہ گیا

شوق سے تصویر جس کی کھینچتے رہتے تھے سب

تیر کھا کے وہ پرندہ پھڑپھڑاتا رہ گیا

پوچھ ڈالا جب کسی نے ہنسنے رونے کا سبب

نام تیرا ان لبوں پہ آتا آتا رہ گیا

کیا کیا ہے آج تک یہ کہہ دیا ہے اس نے آج

باپ جس بیٹے کی خاطر بس کماتا رہ گیا

جا رہا ہے سامنے سے ہاتھ تھامے غیر کا

اور میں پاگل اسے اپنا بتاتا رہ گیا