غم چراتے رو پڑے تھے

Parul Singh Noor (b. 1989)

غم چراتے رو پڑے تھے

ہم ہنساتے رو پڑے تھے

جو غزل تھی نام تیرے

گنگناتے رو پڑے تھے

ہنس رہے تھے کافی دن سے

مسکراتے رو پڑے تھے

دور سے کہتے تھے خوش ہیں

پاس آتے رو پڑے تھے

آگ دل کی تھی بجھانی

خط جلاتے رو پڑے تھے

ہجر میں یہ سب ستارے

جھلملاتے رو پڑے تھے

بڑھ گیا تھا درد حد سے

ہنستے گاتے رو پڑے تھے

شہر خوشیاں کھا گیا تھا

گاؤں جاتے رو پڑے تھے

عشق کا تھا امتحاں وہ

آزماتے رو پڑے تھے

سوچ کیسا واقعہ تھا

دل دکھاتے رو پڑے تھے