روز شب خون مارتی ہے ہوس
Vikram (b. 1990)روز شب خون مارتی ہے ہوس
روح سے روز ہارتی ہے ہوس
آرزو جستجو ضرورت عشق
نت نیا روپ دھارتی ہے ہوس
ڈاہ دیتی ہے جسم والوں کو
چاہتوں کو ابھارتی ہے ہوس
میں مداوا ہوں ہر اداسی کا
کہہ کے گاہک پکارتی ہے ہوس
ایک آسیب ہے خدا کا ڈر
اور یہ آسیب اتارتی ہے ہوس