علاج غم وہ پیہم کر رہے ہیں
Vikram (b. 1990)علاج غم وہ پیہم کر رہے ہیں
مرے غم خوار ماتم کر رہے ہیں
ہے اک گرداب کے مرکز پہ دنیا
ہم اپنی آنکھ بھر نم کر رہے ہیں
ہم اپنے آپ سے ناراض رہ کر
کسی کا بوجھ کچھ کم کر رہے ہیں
خدا کے کام ہیں سچ پوچھیے تو
جنہیں ہم ابن آدم کر رہے ہیں
ہماری خاک مانگی جا رہی ہے
جنوں شاید مجسم کر رہے ہیں