Poetry
Poet
Meter
- دل درویش کی دعا سے اٹھایہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھاNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپناگلہ بنتا ہے اب بے کار اپناNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھیدم نہ لے پائے گا یہاں دم بھیNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- لوگ جنت میں جا رہے ہوں گےاور ہم سٹپٹا رہے ہوں گےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہےدین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- ہے تلخ تر حیات اس شراب سےتو عشق ہار دے گا اجتناب سےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- شکستہ گھر ہےدہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیںNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
- اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہےگرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہےOsama Zakir (b. 1988)
- جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوںتب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوںOsama Zakir (b. 1988)
- رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میںصبح کے سامنے دیوار ہوئی آنکھوں میںOsama Zakir (b. 1988)
- سوکھ جاتی ہے مری چشم رواں بارش میںآسماں ہوتا رہے اشک فشاں بارش میںOsama Zakir (b. 1988)
- کتنے گرداب کھو گئے مجھ میںمیرے سب خواب کھو گئے مجھ میںOsama Zakir (b. 1988)
- منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہےآنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہےOsama Zakir (b. 1988)
- میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھامری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھاOsama Zakir (b. 1988)
- وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھامیں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھاOsama Zakir (b. 1988)
- مت دکھاؤ حوصلے طوفاں گزر جانے کے بعدمر گیا ہے آدمی دنیا میں ڈر جانے کے بعدYawar Ali (b. 1988)
- موت آکر کھڑی ہے سرہانےآج بھی آ گیا وہ تڑپانےYawar Ali (b. 1988)
- نصیحت کی کتابوں کے بنا ہیںہزاروں لوگ اپنوں کے بنا ہیںYawar Ali (b. 1988)
- اس مسافت میں کتنے در گزرےتیری منزل سے ہم کدھر گزرےAamir Azher (b. 1989)
- بدن اتار کے کپڑے بدل رہا ہے کوئینئی سرشت پہن کر نکل رہا ہے کوئیAamir Azher (b. 1989)
- بڑے دن سے ہرے ہیں پات یہاںکوئی ٹکتی نہیں ہے بات یہاںAamir Azher (b. 1989)
- بہت مشکل کی خواہش کو کبھی آساں نہیں دیکھانیا انساں بنانے میں کوئی انساں نہیں دیکھاAamir Azher (b. 1989)
- پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیںہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیںAamir Azher (b. 1989)
- ٹھہرا نہ کچھ یہاں پہ جو آیا وہ بک گیابازار میں بس ایک خریدار ٹک گیاAamir Azher (b. 1989)
- درد دل ہے نہ فلسفہ مرے پاسدال روٹی کا مسئلہ مرے پاسAamir Azher (b. 1989)
- دسترس چھن جائے گی اور نقش پا کھو جائیں گےہم وہاں پر بیٹھے بیٹھے ریت کے ہو جائیں گےAamir Azher (b. 1989)
- دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گااور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گاAamir Azher (b. 1989)
- ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیںابھی رات باقی ہے ہم جانتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
- کب سے آدھا ہے ماہتاب مراپورا ہوتا نہیں ہے خواب مراAamir Azher (b. 1989)
- کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھادلی جو شہر دل تھا جو کچھ بھی تھا کہ تھاAamir Azher (b. 1989)
- کیا کسی رابطے میں رکھا ہےہم نے دل راستے میں رکھا ہےAamir Azher (b. 1989)
- گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھاہم سے جو نہاں ہے وہ عیاں تھا تو کہاں تھاAamir Azher (b. 1989)
- میں رہا عمر بھر یہیں کا رہامیں کناروں پہ بھی زمیں کا رہاAamir Azher (b. 1989)
- ناروا ثبت کیا کن کا اشارہ کر کےدیکھنا ہے یہ تماشا بھی دوبارہ کر کےAamir Azher (b. 1989)
- ناز پر یہ گداز کیسے ہےتو حقیقت مجاز کیسے ہےAamir Azher (b. 1989)
- ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچےشوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچےAamir Azher (b. 1989)
- چلو ایک کام کرتے ہیںایسے بات کرتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
- میں تم سے محبت کرتا ہوں کرتا ہوں محبت تم سے میںاس بات کی کوئی حد ہے کیا کہتا ہی رہوں ہر لہجے میںAamir Azher (b. 1989)
- اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا نشاں رکھا ہےصاف ظاہر ہوں مگر خود کو نہاں رکھا ہےOzair Yusuf (b. 1989)
- اسے لگا تھا کسی اور ہی گلی میں ہواجو حادثہ تھا خبر میں مری گلی میں ہواOzair Yusuf (b. 1989)
- اندر بھی تھا خلا سو خلا دیکھتا رہامیں آسماں کی سمت کھڑا دیکھتا رہاOzair Yusuf (b. 1989)
- تجھ سے ہو پائے اگر صورت ایجاد میں لااپنی وحشت کو کبھی خانۂ آباد میں لاOzair Yusuf (b. 1989)
- کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیںتو یقیناً بات میری ٹھیک سے سمجھا نہیںOzair Yusuf (b. 1989)
- گزشتہ رات مجھے روح تک رسائی ہوئیبراہ راست کسی دل سے آشنائی ہوئیOzair Yusuf (b. 1989)
- گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھاترے خیال نے جانے کہاں بلایا تھاOzair Yusuf (b. 1989)
- مری نظر کا شرر اپنا کام کرنے لگابجھا چراغ مرے دیکھنے سے جلنے لگاOzair Yusuf (b. 1989)
- مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوامکالمہ جو ہوا بھی تو بے زباں سے ہواOzair Yusuf (b. 1989)
- یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیےزخم ہوتے تھے مرے پاس دکھانے کے لیےOzair Yusuf (b. 1989)
- دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھیکھڑکی سے چوری چوری وہ تکتے ہیں آج بھیParul Singh Noor (b. 1989)
- زندگی بس زندگی اتنی بنانی رہ گئیبن گئے کردار سارے بس کہانی رہ گئیParul Singh Noor (b. 1989)