Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل درویش کی دعا سے اٹھایہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھاNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  2. کچھ ایسا ہو گیا ہے یار اپناگلہ بنتا ہے اب بے کار اپناNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  3. کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھیدم نہ لے پائے گا یہاں دم بھیNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  4. لوگ جنت میں جا رہے ہوں گےاور ہم سٹپٹا رہے ہوں گےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  5. وہم ہے ہست بھی نیست بھی وہم ہےدین و دنیا کی ہر اک گلی وہم ہےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  6. ہے تلخ تر حیات اس شراب سےتو عشق ہار دے گا اجتناب سےNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  7. شکستہ گھر ہےدہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیںNaeem Raza Bhatti (b. 1988)
  8. اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہےگرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہےOsama Zakir (b. 1988)
  9. جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوںتب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوںOsama Zakir (b. 1988)
  10. رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میںصبح کے سامنے دیوار ہوئی آنکھوں میںOsama Zakir (b. 1988)
  11. سوکھ جاتی ہے مری چشم رواں بارش میںآسماں ہوتا رہے اشک‌ فشاں بارش میںOsama Zakir (b. 1988)
  12. کتنے گرداب کھو گئے مجھ میںمیرے سب خواب کھو گئے مجھ میںOsama Zakir (b. 1988)
  13. منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہےآنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہےOsama Zakir (b. 1988)
  14. میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھامری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھاOsama Zakir (b. 1988)
  15. وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھامیں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھاOsama Zakir (b. 1988)
  16. مت دکھاؤ حوصلے طوفاں گزر جانے کے بعدمر گیا ہے آدمی دنیا میں ڈر جانے کے بعدYawar Ali (b. 1988)
  17. موت آکر کھڑی ہے سرہانےآج بھی آ گیا وہ تڑپانےYawar Ali (b. 1988)
  18. نصیحت کی کتابوں کے بنا ہیںہزاروں لوگ اپنوں کے بنا ہیںYawar Ali (b. 1988)
  19. اس مسافت میں کتنے در گزرےتیری منزل سے ہم کدھر گزرےAamir Azher (b. 1989)
  20. بدن اتار کے کپڑے بدل رہا ہے کوئینئی سرشت پہن کر نکل رہا ہے کوئیAamir Azher (b. 1989)
  21. بڑے دن سے ہرے ہیں پات یہاںکوئی ٹکتی نہیں ہے بات یہاںAamir Azher (b. 1989)
  22. بہت مشکل کی خواہش کو کبھی آساں نہیں دیکھانیا انساں بنانے میں کوئی انساں نہیں دیکھاAamir Azher (b. 1989)
  23. پڑھ لے گا کوئی رات کی روئی ہوئی آنکھیںہر سمت ہیں آرام سے سوئی ہوئی آنکھیںAamir Azher (b. 1989)
  24. ٹھہرا نہ کچھ یہاں پہ جو آیا وہ بک گیابازار میں بس ایک خریدار ٹک گیاAamir Azher (b. 1989)
  25. درد دل ہے نہ فلسفہ مرے پاسدال روٹی کا مسئلہ مرے پاسAamir Azher (b. 1989)
  26. دسترس چھن جائے گی اور نقش پا کھو جائیں گےہم وہاں پر بیٹھے بیٹھے ریت کے ہو جائیں گےAamir Azher (b. 1989)
  27. دیکھو یہ اس کا دیکھنا دیکھے سے آئے گااور پھر جو دیکھ لو گے تو دیکھا نہ جائے گاAamir Azher (b. 1989)
  28. ستاروں کی گنتی ہے ہم جانتے ہیںابھی رات باقی ہے ہم جانتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
  29. کب سے آدھا ہے ماہتاب مراپورا ہوتا نہیں ہے خواب مراAamir Azher (b. 1989)
  30. کچھ بھی نہیں رہا ہے عہد وفا کہ تھادلی جو شہر دل تھا جو کچھ بھی تھا کہ تھاAamir Azher (b. 1989)
  31. کیا کسی رابطے میں رکھا ہےہم نے دل راستے میں رکھا ہےAamir Azher (b. 1989)
  32. گزرے ہوئے وقتوں کا نشاں تھا تو کہاں تھاہم سے جو نہاں ہے وہ عیاں تھا تو کہاں تھاAamir Azher (b. 1989)
  33. میں رہا عمر بھر یہیں کا رہامیں کناروں پہ بھی زمیں کا رہاAamir Azher (b. 1989)
  34. ناروا ثبت کیا کن کا اشارہ کر کےدیکھنا ہے یہ تماشا بھی دوبارہ کر کےAamir Azher (b. 1989)
  35. ناز پر یہ گداز کیسے ہےتو حقیقت مجاز کیسے ہےAamir Azher (b. 1989)
  36. ہم پہ لازم تھا پہنچنا سو یہاں تک پہنچےشوق رکتا ہی نہیں چاہے جہاں تک پہنچےAamir Azher (b. 1989)
  37. چلو ایک کام کرتے ہیںایسے بات کرتے ہیںAamir Azher (b. 1989)
  38. میں تم سے محبت کرتا ہوں کرتا ہوں محبت تم سے میںاس بات کی کوئی حد ہے کیا کہتا ہی رہوں ہر لہجے میںAamir Azher (b. 1989)
  39. اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا نشاں رکھا ہےصاف ظاہر ہوں مگر خود کو نہاں رکھا ہےOzair Yusuf (b. 1989)
  40. اسے لگا تھا کسی اور ہی گلی میں ہواجو حادثہ تھا خبر میں مری گلی میں ہواOzair Yusuf (b. 1989)
  41. اندر بھی تھا خلا سو خلا دیکھتا رہامیں آسماں کی سمت کھڑا دیکھتا رہاOzair Yusuf (b. 1989)
  42. تجھ سے ہو پائے اگر صورت ایجاد میں لااپنی وحشت کو کبھی خانۂ آباد میں لاOzair Yusuf (b. 1989)
  43. کھینچ کر تو لے گیا ہے جس طرف بنتا نہیںتو یقیناً بات میری ٹھیک سے سمجھا نہیںOzair Yusuf (b. 1989)
  44. گزشتہ رات مجھے روح تک رسائی ہوئیبراہ راست کسی دل سے آشنائی ہوئیOzair Yusuf (b. 1989)
  45. گیا نہیں تھا جہاں سے میں ہو کے آیا تھاترے خیال نے جانے کہاں بلایا تھاOzair Yusuf (b. 1989)
  46. مری نظر کا شرر اپنا کام کرنے لگابجھا چراغ مرے دیکھنے سے جلنے لگاOzair Yusuf (b. 1989)
  47. مکیں کے ہوتے ہوئے رابطہ مکاں سے ہوامکالمہ جو ہوا بھی تو بے زباں سے ہواOzair Yusuf (b. 1989)
  48. یہی کافی تھا توجہ کو ہٹانے کے لیےزخم ہوتے تھے مرے پاس دکھانے کے لیےOzair Yusuf (b. 1989)
  49. دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھیکھڑکی سے چوری چوری وہ تکتے ہیں آج بھیParul Singh Noor (b. 1989)
  50. زندگی بس زندگی اتنی بنانی رہ گئیبن گئے کردار سارے بس کہانی رہ گئیParul Singh Noor (b. 1989)