یہ جو آواز آتی ہے

Vikram (b. 1990)

یہ جو آواز آتی ہے

کبھی مندر کبھی مسجد کی جانب سے

سہم جاتا ہوں جانے کیوں

یہ آوازیں کبھی مجھ کو

سکوں دیتی تھیں لیکن اب

انہیں سن کر اپجتا ہے

عجب اک ڈر تباہی کا

کہ جیسے جے بھوانی کہہ کے جائز ہے

کسی کا قتل کر دینا

کسی کی جان لے لینا

کہ جیسے نعرۂ تکبیر دھل دے گا

گناہوں کو

سو جب آواز آتی ہے

آرتی اور اذانوں کی

میں ڈر سے کانپ جاتا ہوں

میں اک بچی کی انگلی تھام لیتا ہوں

کہ شاید وہ نیا رستہ دکھائے

اور بدل دے

مذہبوں کے یہ نئے معانی