دل ویران کا ثانی نہیں ہے
Vikram (b. 1990)دل ویران کا ثانی نہیں ہے
کسی میں ایسی ویرانی نہیں ہے
درون حلقۂ گرداب ہیں ہم
پر ان آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
یہاں یہ کون سچ مچ ہنس رہا ہے
بھلا کس میں پشیمانی نہیں ہے
ہے دل کی ریت پر پھیلی محبت
یہ وہ پانی ہے جو پانی نہیں ہے
اسے جانا ہی تھا اک دن اچانک
مجھے بالکل بھی حیرانی نہیں ہے
یہ گریہ ہے مری عادت میں شامل
مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے
بدن کے ساتھ ہی مٹ جائیں گے سب
کوئی بھی درد لا فانی نہیں ہے