میں ایک چھچھلا آدمی ہوں
Vikram (b. 1990)میں ایک چھچھلا آدمی ہوں
میرے دوست بھی میری طرح ہی ہیں
شہر کی ہر ایسی ویسی جگہ
کبھی نہ کبھی ہم سے گلزار رہی ہے
ہم نے اپنا کافی وقت
اول جلول کاموں میں لگایا ہے
اور دنیا بدلنے جیسے
اوٹ پٹانگ خواب دیکھے ہیں
اور اب
جب ہم پر دنیا کا سچ کھلا ہے
ہم منہ چھپائے نظر چرائے
پیٹھ پر آتما لادے
وچار دھارا لے لو
کی آواز لگاتے
گلی گلی گھوم رہے ہیں
چھچھلے پانی میں
کوئی بڑی شے ڈوبتے دیکھنا
نایاب نظارا ہوتا ہے
تو
آؤ آؤ آؤ
مجھے میرے چھچھلے پن میں ڈوبتے دیکھو
ٹکٹ ہزار روپے ماتر