ہوا نے چپکے سے

Vikram (b. 1990)

ہوا نے چپکے سے

ایک پودے کے کان میں

کیا نہ جانے پھونکا

کہ کھل اٹھا وہ

حسین رنگوں کو خود پہ اوڑھے

لجا رہا ہے

زمیں سے نظریں چرا رہا ہے

مگر اسے کیا خبر

ہواؤں کے رخ بدلتے ہیں

اور بدلی ہوا کے جھونکے

اسے خزاں کے سپرد کر کے

گزر رہیں گے

مگر یہ موسم بہار کا ہے

سو میں بھی چپ ہوں

حسین موسم کے دھوکے کھانا بھی

خوش نصیبی کی بات ہے نا